3
فصیل کی تعمیرِ نو
امامِ اعظم اِلیاسب باقی اماموں کے ساتھ مل کر تعمیری کام میں لگ گیا۔ اُنہوں نے بھیڑ کے دروازے کو نئے سرے سے بنا دیا اور اُسے مخصوص کر کے اُس کے کواڑ لگا دیئے۔ اُنہوں نے فصیل کے ساتھ والے حصے کو بھی میا بُرج اور حنن ایل کے بُرج تک بنا کر مخصوص کیا۔
یریحو کے آدمیوں نے فصیل کے اگلے حصے کو کھڑا کیا جبکہ زکور بن اِمری نے اُن کے حصے سے ملحق حصے کو تعمیر کیا۔
مچھلی کا دروازہ سناآہ کے خاندان کی ذمہ داری تھی۔ اُسے شہتیروں سے بنا کر اُنہوں نے کواڑ، چٹخنیاں اور کنڈے لگا دیئے۔
اگلے حصے کی مرمت مریموت بن اُوریاہ بن ہقوض نے کی۔
اگلا حصہ مسُلّام بن برکیاہ بن مشیزب ایل کی ذمہ داری تھی۔
صدوق بن بعنہ نے اگلے حصے کو تعمیر کیا۔
اگلا حصہ تقوع کے باشندوں نے بنایا۔ لیکن شہر کے بڑے لوگ اپنے بزرگوں کے تحت کام کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔
یسانہ کا دروازہ یویدع بن فاسح اور مسُلّام بن بسودیاہ کی ذمہ داری تھی۔ اُسے شہتیروں سے بنا کر اُنہوں نے کواڑ، چٹخنیاں اور کنڈے لگا دیئے۔
اگلا حصہ ملطیاہ جِبعونی اور یدون مرونوتی نے کھڑا کیا۔ یہ لوگ جِبعون اور مِصفاہ کے تھے، وہی مِصفاہ جہاں دریائے فرات کے مغربی علاقے کے گورنر کا دار الحکومت تھا۔
اگلے حصے کی مرمت ایک سنار بنام عُزی ایل بن حرہیاہ کے ہاتھ میں تھی۔
اگلے حصے پر ایک عطر ساز بنام حننیاہ مقرر تھا۔ اِن لوگوں نے فصیل کی مرمت ’موٹی دیوار‘ تک کی۔
اگلے حصے کو رِفایاہ بن حور نے کھڑا کیا۔ یہ آدمی ضلع یروشلم کے آدھے حصے کا افسر تھا۔
10 یدایاہ بن حرومف نے اگلے حصے کی مرمت کی جو اُس کے گھر کے مقابل تھا۔
اگلے حصے کو حطّوش بن حسبنیاہ نے تعمیر کیا۔
11 اگلے حصے کو تنوروں کے بُرج تک ملکیاہ بن حارِم اور حسوب بن پخت موآب نے کھڑا کیا۔
12 اگلا حصہ سلّوم بن ہلّوحیش کی ذمہ داری تھی۔ یہ آدمی ضلع یروشلم کے دوسرے آدھے حصے کا افسر تھا۔ اُس کی بیٹیوں نے اُس کی مدد کی۔
13 حنون نے زنوح کے باشندوں سمیت وادی کے دروازے کو تعمیر کیا۔ شہتیروں سے اُسے بنا کر اُنہوں نے کواڑ، چٹخنیاں اور کنڈے لگائے۔ اِس کے علاوہ اُنہوں نے فصیل کو وہاں سے کچرے کے دروازے تک کھڑا کیا۔ اِس حصے کا فاصلہ تقریباً 1,500 فٹ یعنی آدھا کلومیڑ تھا۔
14 کچرے کا دروازہ ملکیاہ بن ریکاب کی ذمہ داری تھی۔ یہ آدمی ضلع بیت کرم کا افسر تھا۔ اُس نے اُسے بنا کر کواڑ، چٹخنیاں اور کنڈے لگائے۔
15 چشمے کے دروازے کی تعمیر سلّون بن کُل حوزہ کے ہاتھ میں تھی جو ضلع مِصفاہ کا افسر تھا۔ اُس نے دروازے پر چھت بنا کر اُس کے کواڑ، چٹخنیاں اور کنڈے لگا دیئے۔ ساتھ ساتھ اُس نے فصیل کے اُس حصے کی مرمت کی جو شاہی باغ کے پاس والے تالاب سے گزرتا ہے۔ یہ وہی تالاب ہے جس میں پانی نالے کے ذریعے پہنچتا ہے۔ سلّون نے فصیل کو اُس سیڑھی تک تعمیر کیا جو یروشلم کے اُس حصے سے اُترتی ہے جو ’داؤد کا شہر‘ کہلاتا ہے۔
16 اگلا حصہ نحمیاہ بن عزبق کی ذمہ داری تھی جو ضلع بیت صور کے آدھے حصے کا افسر تھا۔ فصیل کا یہ حصہ داؤد بادشاہ کے قبرستان کے مقابل تھا اور مصنوعی تالاب اور سورماؤں کے کمروں پر ختم ہوا۔
17 ذیل کے لاویوں نے اگلے حصوں کو کھڑا کیا: پہلے رحوم بن بانی کا حصہ تھا۔
ضلع قعیلہ کے آدھے حصے کے افسر حسبیاہ نے اگلے حصے کی مرمت کی۔
18 اگلے حصے کو لاویوں نے بِنّوئی بن حنداد کے زیرِ نگرانی کھڑا کیا جو ضلع قعیلہ کے دوسرے آدھے حصے پر مقرر تھا۔
19 اگلا حصہ مِصفاہ کے سردار عزر بن یشوع کی ذمہ داری تھی۔ یہ حصہ فصیل کے اُس موڑ پر تھا جہاں راستہ اسلحہ خانے کی طرف چڑھتا ہے۔
20 اگلے حصے کو باروک بن زبی نے بڑی محنت سے تعمیر کیا۔ یہ حصہ فصیل کے موڑ سے شروع ہو کر امامِ اعظم اِلیاسب کے گھر کے دروازے پر ختم ہوا۔
21 اگلا حصہ مریموت بن اُوریاہ بن ہقوض کی ذمہ داری تھی اور اِلیاسب کے گھر کے دروازے سے شروع ہو کر اُس کے کونے پر ختم ہوا۔
22 ذیل کے حصے اُن اماموں نے تعمیر کئے جو شہر کے گرد و نواح میں رہتے تھے۔
23 اگلے حصے کی تعمیر بن یمین اور حسوب کے زیرِ نگرانی تھی۔ یہ حصہ اُن کے گھروں کے سامنے تھا۔
عزریاہ بن معسیاہ بن عننیاہ نے اگلے حصے کی مرمت کی۔ یہ حصہ اُس کے گھر کے پاس ہی تھا۔
24 اگلا حصہ بِنّوئی بن حنداد کی ذمہ داری تھی۔ یہ عزریاہ کے گھر سے شروع ہوا اور مُڑتے مُڑتے کونے پر ختم ہوا۔
25 اگلا حصہ فالال بن اُوزی کی ذمہ داری تھی۔ یہ حصہ موڑ سے شروع ہوا، اور اوپر کا جو بُرج شاہی محل سے اُس جگہ نکلتا ہے جہاں محافظوں کا صحن ہے وہ بھی اِس میں شامل تھا۔
اگلا حصہ فِدایاہ بن پرعوس 26 اور عوفل پہاڑی پر رہنے والے رب کے گھر کے خدمت گاروں کے ذمے تھا۔ یہ حصہ پانی کے دروازے اور وہاں سے نکلے ہوئے بُرج پر ختم ہوا۔
27 اگلا حصہ اِس بُرج سے لے کر عوفل پہاڑی کی دیوار تک تھا۔ تقوع کے باشندوں نے اُسے تعمیر کیا۔
28 گھوڑے کے دروازے سے آگے اماموں نے فصیل کی مرمت کی۔ ہر ایک نے اپنے گھر کے سامنے کا حصہ کھڑا کیا۔
29 اُن کے بعد صدوق بن اِمّیر کا حصہ آیا۔ یہ بھی اُس کے گھر کے مقابل تھا۔
اگلا حصہ سمعیاہ بن سکنیاہ نے کھڑا کیا۔ یہ آدمی مشرقی دروازے کا پہرے دار تھا۔
30 اگلا حصہ حننیاہ بن سلمیاہ اور صلف کے چھٹے بیٹے حنون کے ذمے تھا۔
اگلا حصہ مسُلّام بن برکیاہ نے تعمیر کیا جو اُس کے گھر کے مقابل تھا۔
31 ایک سنار بنام ملکیاہ نے اگلے حصے کی مرمت کی۔ یہ حصہ رب کے گھر کے خدمت گاروں اور تاجروں کے اُس مکان پر ختم ہوا جو پہرے کے دروازے کے سامنے تھا۔ فصیل کے کونے پر واقع بالاخانہ بھی اِس میں شامل تھا۔
32 آخری حصہ بھیڑ کے دروازے پر ختم ہوا۔ سناروں اور تاجروں نے اُسے کھڑا کیا۔