16
انسان دل میں منصوبے باندھتا ہے، لیکن زبان کا جواب رب کی طرف سے آتا ہے۔
انسان کی نظر میں اُس کی تمام راہیں پاک صاف ہیں، لیکن رب ہی روحوں کی جانچ پڑتال کرتا ہے۔
جو کچھ بھی تُو کرنا چاہے اُسے رب کے سپرد کر۔ تب ہی تیرے منصوبے کامیاب ہوں گے۔
رب نے سب کچھ اپنے ہی مقاصد پورے کرنے کے لئے بنایا ہے۔ وہ دن بھی پہلے سے مقرر ہے جب بےدین پر آفت آئے گی۔
رب ہر مغرور دل سے گھن کھاتا ہے۔ یقیناً وہ سزا سے نہیں بچے گا۔
شفقت اور وفاداری گناہ کا کفارہ دیتی ہیں۔ رب کا خوف ماننے سے انسان بُرائی سے دُور رہتا ہے۔
اگر رب کسی انسان کی راہوں سے خوش ہو تو وہ اُس کے دشمنوں کو بھی اُس سے صلح کرانے دیتا ہے۔
انصاف سے تھوڑا بہت کمانا ناانصافی سے بہت دولت جمع کرنے سے کہیں بہتر ہے۔
انسان اپنے دل میں منصوبے باندھتا رہتا ہے، لیکن رب ہی مقرر کرتا ہے کہ وہ آخرکار کس راہ پر چل پڑے۔
10 بادشاہ کے ہونٹ گویا الٰہی فیصلے پیش کرتے ہیں، اُس کا منہ عدالت کرتے وقت بےوفا نہیں ہوتا۔
11 رب درست ترازو کا مالک ہے، اُسی نے تمام باٹوں کا انتظام قائم کیا۔
12 بادشاہ بےدینی سے گھن کھاتا ہے، کیونکہ اُس کا تخت راست بازی کی بنیاد پر مضبوط رہتا ہے۔
13 بادشاہ راست باز ہونٹوں سے خوش ہوتا اور صاف بات کرنے والے سے محبت رکھتا ہے۔
14 بادشاہ کا غصہ موت کا پیش خیمہ ہے، لیکن دانش مند اُسے ٹھنڈا کرنے کے طریقے جانتا ہے۔
15 جب بادشاہ کا چہرہ کِھل اُٹھے تو مطلب زندگی ہے۔ اُس کی منظوری موسمِ بہار کے تر و تازہ کرنے والے بادل کی مانند ہے۔
16 حکمت کا حصول سونے سے کہیں بہتر اور سمجھ پانا چاندی سے کہیں بڑھ کر ہے۔
17 دیانت دار کی مضبوط راہ بُرے کام سے دُور رہتی ہے، جو اپنی راہ کی پہرا داری کرے وہ اپنی جان بچائے رکھتا ہے۔
18 تباہی سے پہلے غرور اور گرنے سے پہلے تکبر آتا ہے۔
19 فروتنی سے ضرورت مندوں کے درمیان بسنا گھمنڈیوں کے لُوٹے ہوئے مال میں شریک ہونے سے کہیں بہتر ہے۔
20 جو کلام پر دھیان دے وہ خوش حال ہو گا، مبارک ہے وہ جو رب پر بھروسا رکھے۔
21 جو دل سے دانش مند ہے اُسے سمجھ دار قرار دیا جاتا ہے، اور میٹھے الفاظ تعلیم میں اضافہ کرتے ہیں۔
22 فہم اپنے مالک کے لئے زندگی کا سرچشمہ ہے، لیکن احمق کی اپنی ہی حماقت اُسے سزا دیتی ہے۔
23 دانش مند کا دل سمجھ کی باتیں زبان پر لاتا اور تعلیم دینے میں ہونٹوں کا سہارا بنتا ہے۔
24 مہربان الفاظ خالص شہد ہیں، وہ جان کے لئے شیریں اور پورے جسم کو تر و تازہ کر دیتے ہیں۔
25 ایسی راہ بھی ہوتی ہے جو دیکھنے میں تو ٹھیک لگتی ہے گو اُس کا انجام موت ہے۔
26 مزدور کا خالی پیٹ اُسے کام کرنے پر مجبور کرتا، اُس کی بھوک اُسے ہانکتی رہتی ہے۔
27 شریر کُرید کُرید کر غلط کام نکال لیتا، اُس کے ہونٹوں پر جُھلسانے والی آگ رہتی ہے۔
28 کج رَو آدمی جھگڑے چھیڑتا رہتا، اور تہمت لگانے والا دلی دوستوں میں بھی رخنہ ڈالتا ہے۔
29 ظالم اپنے پڑوسی کو ورغلا کر غلط راہ پر لے جاتا ہے۔
30 جو آنکھ مارے وہ غلط منصوبے باندھ رہا ہے، جو اپنے ہونٹ چبائے وہ غلط کام کرنے پر تُلا ہوا ہے۔
31 سفید بال ایک شاندار تاج ہیں جو راست باز زندگی گزارنے سے حاصل ہوتے ہیں۔
32 تحمل کرنے والا سورمے سے سبقت لیتا ہے، جو اپنے آپ کو قابو میں رکھے وہ شہر کو شکست دینے والے سے برتر ہے۔
33 انسان تو قرعہ ڈالتا ہے، لیکن اُس کا ہر فیصلہ رب کی طرف سے ہے۔